مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُؤَيَّدُ بِهِمُ الْإِسْلَامُ مِنَ الْأَشْرَارِ باب: اس بات کا بیان کہ بعض اوقات برے لوگوں کے ذریعے اسلام کی تائید ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 9568
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، وَضُبِّبَ عَلَيْهِ ، وَلَا يَسْتَحِقُّ التَّضْبِيبَ ; لِأَنَّهُ صَوَابٌ وَقَدْ ذَكَرَ الْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ أَنَّهُ رَوَى عَمْرٌو عَنْ عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قُلْتُ : وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن عمرو بن مقرن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کسی گنہگار شخص کے ذریعے اس دین کی تائید کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حالات میں نقل کی ہے اور اس پر تنقید کی ہے ، حالانکہ وہ تنقید کی مستحق نہیں ہے ، کیونکہ یہ درست ہے ، امام مزی نے ابوخالد والبی کے حالات میں یہ بات ذکر کی ہے کہ عمرو نے سیدنا عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ اور سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں ، میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال ثقہ ہیں ۔