مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا تَحْصُلُ بِهِ الشَّهَادَةُ باب: اس صورت کا بیان ، جس میں شہادت حاصل ہوتی ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ الشَّهِيدُ إِلَّا مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، مَنْ قَالَ فِي يَوْمٍ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً : اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْمَوْتِ وَفِيمَا بَعْدَ الْمَوْتِ ثُمَّ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ شَهِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ فِي مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَاتَ بِأَيِّ حَتْفٍ كَانَ فَهُوَ شَهِيدٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا شہید صرف وہ ہوتا ہے ، جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے جو شخص روزانہ پچیس مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے : ” اے اللہ ! تو موت میں اور موت کے بعد والی زندگی میں برکت نصیب فرما “ ۔ پھر وہ اپنے بستر پر بھی مر جائے تو اللہ تعالیٰ اسے شہید کا اجر عطا کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے جہاد کی فضیلت کے بارے میں ایسی احادیث گزر چکی ہیں کہ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنے گھر سے نکلتا ہے ، تو پھر وہ جس وجہ سے بھی مرے وہ شہید شمار ہوتا ہے ۔