حدیث نمبر: 9555
وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالزَّكَاةِ [ ثَلَاثَ ] مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : " وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ ؟ " قَالُوا : الَّذِي يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ . الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ ، [ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ ] وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ ، وَالْحَرْقُ شَهَادَةٌ ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ ، وَالسُّلُّ شَهَادَةٌ ، وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں زکوۃ لے کر تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے دریافت کیا : تم لوگ شہید کسے شمار کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے طاعون کی وجہ سے مرنا شہادت ہے نفاس کے دوران عورت کا مرنا شہادت ہے جل کر مرنا شہادت ہے ڈوب کر مرنا شہادت ہے سل کی بیماری کی وجہ سے مرنا شہادت ہے اور پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مرنا شہادت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1265) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6115)»