مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَةِ وَفَضْلِهَا باب: شہادت اور اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَقَالَ حِينَ انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ : اللَّهُمَّ آتِنِي مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا ؟ " . قَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِذًا يُعْقَرُ جَوَادُكَ وَتَسْتَشْهِدُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نماز ادا کرنے کے لئے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے جب وہ شخص صف تک پہنچا تو اس نے یہ کہا: اے اللہ ! تو مجھے وہ چیز عطا فرما جو تو اپنے نیک بندوں کو عطا کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا : ابھی کلام کرنے والا شخص کون ہے ؟ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسی صورت میں تمہارے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں گے اور تم جام شہادت نوش کر لو گے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن مسلم بن عائذ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔