مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَةِ وَفَضْلِهَا باب: شہادت اور اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُجَاهِدٍ وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ - وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ شَجَرَةَ مِمَّنْ يُصَدِّقُ قَوْلُهُ فِعْلَهُ - قَالَ : خَطَبَنَا فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ، مَا أَحْسَنَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ، نَرَى مِنْ بَيْنِ أَحْمَرَ وَأَخْضَرَ وَأَصْفَرَ ، وَفِي الرِّجَالِ مَا فِيهَا ، وَكَانَ يَقُولُ : إِذَا صُفَّ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ وَصُفُّوا لِلْقِتَالِ : فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَأَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَأَبْوَابُ النَّارِ ، وَزُيِّنَ الْحُورُ الْعِينُ وَاطَّلَعْنَ ، فَإِذَا أَقْبَلَ الرَّجُلُ قُلْنَ : اللَّهُمَّ انْصُرْهُ وَإِذَا أَدْبَرَ احْتَجَبْنَ مِنْهُ وَقُلْنَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، فَانْهَكُوا وُجُوهَ الْقَوْمِ ، فَدَى لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي ، وَلَا تُخْزُوا الْحُورَ الْعِينَ ، فَإِنَّ أَوَّلَ قَطْرَةٍ تُنْضَحُ تُكَفِّرُ عَنْهُ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلَهُ ، وَتَنْزِلُ إِلَيْهِ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُورِ يَمْسَحَانِ وَجْهَهُ وَيَقُولَانِ قَدْ أَنَى لَكَ وَيَقُولُ : قَدْ أَنَى لَكُمَ ، ثُمَّ يُكْسَى مِائَةَ حُلَّةٍ لَيْسَ مِنْ نَسْجِ بَنِي آدَمَ ، وَلَكِنْ مِنْ نَبْتِ الْجَنَّةِ لَوْ وُضِعْنَ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ لَوَسِعْنَهُ ، وَكَانَ يَقُولُ : نُبِّئْتُ : " أَنَّ السُّيُوفَ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤مجاہد اور یزید بن شجرہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے یزید بن شجرہ ان افراد میں سے ایک ہیں جن کا قول ان کے فعل کی تصدیق کرتا تھا وہ بیان کرتے ہیں : ( راوی کہتے ہیں : یزید بن شجرہ نے ) ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اللہ تعالیٰ نے تم پر کتنا عمدہ نعمتیں کی ہیں ہم سرخ سبز اور زرد کو دیکھتے ہیں اور لوگوں میں ایسے افراد ہیں ، جو ان میں ہیں وہ یہ فرمایا کرتے تھے : جب نماز کے لئے صف قائم ہوتی ہے اور جب جنگ کے لئے صف بنائی جاتی ہے ، تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں حورعین آراستہ ہوتی ہیں اور جھانکتی ہیں جب کوئی شخص آگے بڑھتا ہے ، تو وہ یہ کہتی ہیں اے اللہ ! اس کی مدد فرما اور جب کوئی شخص پیچھے مڑ جاتا ہے ، تو وہ اس سے پردہ کر لیتی ہیں اور کہتی ہیں اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے تو تم دشمن کو پسپا کرو میرے ماں باپ تم لوگوں پر قربان ہوں تم لوگ حورعین کو رسوائی کا شکار نہ کرو ، کیونکہ جب ( شہید کا ) پہلا قطرہ گرتا ہے ، تو اس کے کیے ہوئے عمل کی ہر چیز کا کفارہ بن جاتا ہے حوروں سے تعلق رکھنے والی دو بیویاں نیچے اتر کر اس کے پاس آتی ہیں اور اس کے چہرے کو پونچھتی ہیں اور یہ کہتی ہیں : تمہارا وقت آ گیا ہے تو وہ یہ کہتا ہے : تمہارا بھی وقت آ گیا ہے ، پھر اسے ایک سو حلے پہنائے جاتے ہیں ، جو انسانوں کے بنے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ جنت میں پیدا ہوئے ہوتے ہیں اگر انہیں دو انگلیوں کے درمیان رکھا جائے تو وہ ان میں سما جائیں وہ یہ کہا: کرتے تھے : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے تلواریں جنت کی کنجیاں ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔