حدیث نمبر: 9471
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّهُ كَانَ تَحْتَ ظِلِّ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ ذَلِكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كُورٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُنَا ، فَقَالَ : " نَعَمْ " ثُمَّ أَعَادَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَقَالَ فِيمَا يَقُولُ : " رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا وَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ عَلَى الْمُؤْمِنِ [ حَرَامٌ ] عِرْضُهُ [ وَمَالُهُ ] وَنَفْسُهُ حُرْمَةٌ كَحُرْمَةٍ هَذَا الْيَوْمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سفیان بن وہب خولانی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ حجتہ الوداع کے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے سائے کے نیچے موجود تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک شخص نے انہیں یہ بات بتائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس پر تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ ہمیں مخاطب کر رہے ہیں ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی پھر آپ نے جو بات ارشاد فرمائی اس میں ایک بات یہ بھی تھی : ” اللہ کی راہ میں شام کرنا دنیا اور اس پر موجود تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہے اور اللہ کی راہ میں صبح کرنا دنیا اور اس پر موجود تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہے اور ایک مومن کی عزت اس کا مال اور اس کی جان دوسرے مومن کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح اس دن کی حرمت ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9471
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (6404) اخرجه احمد فى المسند (166/4)»