مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ باب: اس شخص کا بیان جو کسی غازی کو سامان فراہم کرے یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کرے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ فِي غَيْرِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَكَذَلِكَ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والے کسی شخص کو سامان فراہم کرے تو گویا اس نے بھی جنگ میں حصہ لیا اور جو شخص اس غازی کی غیر موجودگی میں اس کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کرے گویا اس نے بھی جنگ میں حصہ لیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رؤاد بن جراح ہے جسے امام أحمد نے سفیان سے منقول روایت کے علاوہ میں ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور ابن حبان نے بھی اس طرح کیا ہے ابن حبان کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور یہ دوسرے ( راویوں کے ) برخلاف روایت نقل کرتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔