مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ فِي الْمُجَاهِدِينَ وَنَفَقَتُهُمْ باب: مجاہدین اور ان کے خرچ کا بیان
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طُوبَى لِمَنْ أَكْثَرْ فِي الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى ؛ فَإِنَّ لَهُ بِكُلِّ كَلِمَةٍ سَبْعِينَ أَلْفَ حَسَنَةٍ ، كُلُّ حَسَنَةٍ مِنْهَا عَشْرَةُ أَضْعَافٍ مَعَ الَّذِي لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْمَزِيدِ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ النَّفَقَةُ ؟ قَالَ : " النَّفَقَةُ عَلَى قَدْرٍ ذَلِكَ " . ¤ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقُلْتُ لِمُعَاذٍ : إِنَّمَا النَّفَقَةُ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ؟ فَقَالَ مُعَاذٌ : قَلَّ فَهْمُكَ ، إِنَّمَا ذَاكَ إِذَا أَنْفَقُوهَا وَهُمْ مُقِيمُونَ بَيْنَ أَهْلِيهِمْ غَيْرُ غُزَاةٍ ، فَإِذَا غَزَوْا وَأَنْفَقُوا خَبَّأَ اللَّهُ لَهُمْ مِنْ خِزَانَةِ رَحْمَتِهِ مَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ عَلِمُ الْعِبَادِ وَصِفَتُهُمْ ، فَأُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ وَحِزْبُ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اُن کے لئے مبارک باد ہے ، جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے دوران اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں ، کیونکہ ہر ایک کلمہ کے عوض میں انہیں ستر ہزار نیکیاں ملیں گی جن میں سے ہر ایک نیکی اس سے دس گنا ہو گی اور جو اس کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ( مزید اجر و ثواب ) حاصل ہو گا وہ اس کے علاوہ ہے عرض کی گئی یا رسول اللہ ! خرچ کرنے کا کیا حکم ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خرچ کا حکم بھی اسی طرح ہو گا “ عبدالرحمن نامی راوی کہتے ہیں میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا خرچ کا اجر بھی سات سو گنا ہو گا ؟ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری فہم کم ہے یہ اجر تو اس صورت میں ہو گا کہ جب وہ لوگ خرچ فراہم کریں گے اور خود اپنے گھر والوں میں مقیم رہیں اور جنگ میں حصہ نہ لیں ، جب وہ جنگ میں بھی حصہ لیں اور خرچ بھی کریں ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے خزانوں میں سے ان کے لئے وہ کچھ چھپا کے رکھا ہوا ہے کہ جو وہ بندوں کے علم اور بیان سے ماور اء ہے ، یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور اللہ کا گروہ ہی غالب ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔