حدیث نمبر: 9451
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَفَعَهُ - قَالَ : " كَلَّمَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - هَذَا الْبَحْرَ الْغَرْبِيَّ وَكَلَّمَ الْبَحْرَ الشَّرْقِيَّ ، فَقَالَ لِلْبَحْرِ الْغَرْبِيِّ : إِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي فَكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ بِهِمْ ؟ قَالَ : أُغْرِقُهُمْ قَالَ : بَأْسُكَ فِي نَوَاحِيكَ فَحَرَمَهُ الْحَلَبَةَ وَالصَّيْدَ . وَكَلَّمَ هَذَا الْبَحْرَ الشَّرْقِيَّ فَقَالَ : إِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي فَمَا أَنْتَ صَانِعٌ بِهِمْ ؟ قَالَ : أَحْمِلُهُمْ عَلَى بَدَنِي أَكُونُ لَهُمْ كَالْوَالِدَةِ لِوَلَدِهَا ، فَأَثَابَهُ الْحَلَبَةَ وَالصَّيْدَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَجَادَةً وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اللہ تعالیٰ نے مغربی سمندر سے کلام کیا اور مشرقی سمندر سے کلام کیا اس نے مغربی سمندر سے فرمایا میں اپنے بندوں میں سے کچھ بندے تم پر سوار کرواؤں گا تم ان کے ساتھ کیا کرو گے ؟ اس نے جواب دیا : میں انہیں ڈبو دوں گا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہاری خرابی تمہارے نواحی علاقوں میں ہو گی ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے زیور اور شکار سے محروم کر دیا پھر اللہ تعالیٰ نے مشرقی سمندر سے کلام کیا اور فرمایا : میں اپنے بندوں میں سے کچھ بندے تمہارے اوپر سوار کرواؤں گا تم ان کے ساتھ کیا کرو گے اس نے جواب دیا : میں اسے انہیں جسم پر سوار کرواؤں گا ؟ اور ان کے لئے یوں ہو جاؤں گا ، جس طرح ماں اپنے بچوں کے لئے ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بدلے میں زیور اور شکار عطا فرمایا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ’ وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر عمری ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9451
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1669)»