حدیث نمبر: 9448
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَجَّةٌ لِمَنْ لَمْ يَحُجَّ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ وَغَزْوَةٌ لِمَنْ قَدْ حَجَّ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ حِجَجٍ وَغَزْوَةٌ فِي الْبَحْرِ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ فِي الْبَرِّ ، وَمَنْ أَجَارَ الْبَحْرَ فَكَأَنَّمَا أَجَازَ الْأَوْدِيَةَ كُلَّهَا ، وَالْمَائِدُ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص نے حج نہ کیا ہو اس کے لئے حج کرنا دس غزوات میں حصہ لینے سے زیادہ بہتر ہے اور جو شخص حج کر چکا ہو اس کے لئے غزوہ میں شرکت کرنا دس مرتبہ حج کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور سمندر کے غزوہ میں شرکت کرنا خشکی کے دس غزوات میں شرکت کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، جو شخص سمندر پار کرتا ہے وہ گویا تمام وادیاں پار کرتا ہے اور ( سمندری سفر میں ) جس شخص کا سر چکراتا ہے وہ ایسے شخص کی مانند ہے ، جو ( خشکی کی جنگ میں ) اپنے خون میں لت پت ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9448
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف