حدیث نمبر: 9434
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ الْقَوْمُ وَهُمْ يَقُولُونَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ" . ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ لَا يَشْهَدُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے ۔ آپ نے کچھ لوگوں کو سنا ، جو یہ کہہ رہے تھے یا رسول اللہ ! اعمال میں کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج پھر آپ نے نشیبی حصے میں ایک آواز سنی وہ شخص یہ کہہ رہا تھا میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص بھی اس ( بات ) کی گواہی دے گا وہ شرک سے لا تعلق ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9434
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (451/5)»