مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَيْلِ باب: گھوڑوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 9329
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَالْيُمْنُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا ، قَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ أَتَمَّ مِنْهُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَيَأْتِي بَعْدَ هَذَا بِبَابٍ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی اور برکت باندھ دی گئی ہے اور ان کے مالکان کی ان کے حوالے سے مدد کی جاتی ہے تم انہیں ہار پہناؤ لیکن انہیں تار نہ پہنانا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں وہ ایک باب کے بعد آگے آئے گی ۔