مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَيْلِ باب: گھوڑوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : "يَا أَبَا ذَرٍّ اعْقِلْ مَا أَقُولُ لَكَ، لَعَنَاقٌ تَأْتِي رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أُحُدٍ ذَهَبًا يَتْرُكُهُ وَرَاءَهُ . يَا أَبَا ذَرٍّ اعْقِلْ مَا أَقُولُ لَكَ ؛ إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ كَذَا وَكَذَا . اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أَقُولُ لَكَ ؛ إِنَّ الْخَيْلَ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، أَوْ إِنَّ الْخَيْلَ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو الْأَسْوَدِ الْغِفَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! میں جو تم سے کہنے لگا ہوں ، اس کو یاد رکھنا ، بکری کا بچہ ، جو کسی مسلمان فرد کے پاس آئے یہ اس کے لئے اُحد پہاڑ کے سونا ہو کے ملنے سے زیادہ بہتر ہے جسے وہ اپنے پیچھے چھوڑ جائے اے ابوذر ! میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں اسے یاد رکھنا کثرت والے لوگ قیامت کے دن قلت والے ہوں گے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو یہ کرے اور یہ کرے ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرے ) اے ابوذر میں جو تم سے کہہ رہا ہوں اسے یاد رکھنا گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی رکھ دی گئی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بے شک گھوڑے کی پیشانی میں بھلائی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابواسود غفاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔