حدیث نمبر: 9318
وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ : خَرَجْتُ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي عُمَرُ : مَنْ صَحِبْتَ ؟ قُلْتُ : صَحِبْتُ رَجُلًا مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ . فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَخُوكَ الْبِكْرِيُّ وَلَا تَأْمَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

اسلم بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر پر گیا جب میں واپس آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارے ساتھ کون تھا ؟ میں نے جواب دیا : میں بکر بن وائل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم نے یہ بات نہیں سنی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” تمہارا بھائی بکری ( یعنی بکر قبیلے سے تعلق رکھنے والا ) ہے اور تم اس سے بے خوف ( یا محفوظ ) نہیں ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں زید بن عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9318
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2071)»