حدیث نمبر: 9314
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَانَتِ الْأَرْضُ مُخْصَبَةً فَاقْصُرُوا فِي السَّيْرِ وَأَعْطُوا الرِّكَابَ حَقَّهَا، فَإِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَإِذَا كَانَتِ الْأَرْضُ مُجْدِبَةً فَانْجُوا عَلَيْهَا ، وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَمَرَاحُ السِّبَاعِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفُهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب زمین سرسبز و شاداب ہو ، تو آرام سے سفر کرو ، اور سواریوں کو ان کا حق دو کیونکہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے اور وہ نرمی کو پسند کرتا ہے اور جب زمین خشک ہو ، تو وہاں سے تیزی سے گزر جاؤ ، اور تم پر رات کے وقت سفر کرنا لازم ہے ، کیونکہ رات میں زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور تم راستے کے درمیان میں رات کے وقت پڑاؤ کرنے سے بچنا ، کیونکہ وہ سانپوں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں اور درندوں کی گزرگاہ ہوتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے یہ موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابونعیم ہے جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9314
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1695) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10811)»