مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ وَصِيَّةِ الْأَمِيرِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں امیر کو کی جانے والی تلقین
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ دَعَاهُ ، فَأَمَرَهُ بِتَقْوَى اللَّهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ، ثُمَّ قَالَ : " اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ لَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا ، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى خِصَالٍ ثَلَاثٍ : ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْهِجْرَةِ إِنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ، وَإِنْ هُمْ لَمْ يَفْعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَلَا فِي الْغَنِيمَةِ شَيْءٌ ، وَيَجُوزُ عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَإِنْ هُمْ أَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تَفْعَلْ ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي تُصِيبُ فِيهِمْ حُكْمَ اللَّهِ أَمْ لَا وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ ، ثُمَّ إِنْ أَرَادُوكَ أَنْ تُعْطِيَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ فَلَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ أَعْطِهِمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ ، فَإِنَّكَ إِنْ تَخْفِرْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمُرَادِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤ وَبَقِيَّةُ أَحَادِيثِ هَذَا الْبَابِ فِي بَابِ مَا نُهِيَ عَنْ قَتْلِهِ فِي الْحَرْبِ ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو کسی لشکر کا امیر مقرر کرتے تھے ، تو اسے بلاتے تھے اور اسے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ بہتری کا رویہ رکھنے کا حکم دیتے تھے اور پھر آپ یہ حکم دیتے تھے : ” تم اللہ کا نام لے کر جنگ میں حصہ لو ، اور جو لوگ اللہ کا انکار کرتے ہیں ، تم ان کے ساتھ جنگ کرو تم خیانت نہ کرنا عہد شکنی نہ کرنا مثلہ نہ کرنا کسی کمسن کو قتل نہ کرنا جب مشرکین سے تعلق رکھنے والے اپنے دشمن سے تمہارا سامنا ہو ، تو تم انہیں تین میں سے ایک بات کی دعوت دینا تم انہیں اسلام کی دعوت دینا اگر وہ تمہاری بات مان لیں ، تو تم ان سے اس چیز کو قبول کر لینا اور ان سے جنگ کرنے سے رک جانا پھر تم انہیں ہجرت کی دعوت دینا کہ جو کچھ بھی مہاجرین کو ملتا ہے وہ انہیں بھی ملے گا ، اور جو فرائض مہاجرین پر عائد ہوتے ہیں وہ ان پر بھی عائد ہوں گے ، اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں ، تو تم ان سے یہ قبول کر لینا اور ان سے رک جانا اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو تم انہیں یہ بتانا کہ ان کی حالت دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہو گی انہیں مال فئے یا غنیمت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن ان پر اللہ کا وہ حکم جاری ہو گا جو مسلمانوں پر جاری ہوتا ہے اگر وہ ( یعنی دشمن ) یہ ارادہ کریں کہ تم انہیں اللہ کے حکم کے مطابق رکھو تو تم ایسا نہ کرنا ، کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرو گے یا نہیں ؟ بلکہ تم انہیں اپنے فیصلے کے مطابق تیار کرنا اور اگر وہ تم سے یہ چاہیں کہ تم انہیں اللہ کی پناہ دو تو تم ایسا نہ کرنا بلکہ تم انہیں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دینا ، کیونکہ اگر تم اپنی دی ہوئی یا اپنے ساتھیوں کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرو گے تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ تم اللہ کی پناہ کی خلاف ورزی کرو“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سالم بن عبدالواحد مرادی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس باب سے تعلق رکھنے والی بقیہ احادیث اس باب میں آئیں گے جس میں جنگ کے دوران قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔