مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُسَاكَنَةِ الْكُفَّارِ باب: کفار کے ساتھ رہنے کی ممانعت
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى نَاسٍ مَنْ خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمُوا بِالسُّجُودِ فَقَتَلَهُمْ فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنِصْفِ الدِّيَةِ ثُمَّ قَالَ : " أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤قیس بن ابوحازم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو خثعم قبیلے کے کچھ افراد کی طرف بھیجا ان لوگوں نے سجدہ کر کے خود کو بچانا چاہا لیکن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی نصف دیت ادا کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” میں ایسے ہر مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے ساتھ مقیم رہتا ہے ( ان دونوں کو ایک دوسرے سے اتنا دور رہنا چاہیے ) کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی آگ کو نہ دیکھ سکیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔