حدیث نمبر: 9282
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا لَهُ : احْفَظْ رِحَالَنَا ثُمَّ تَدْخُلُ ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " ادْخُلْ " فَدَخَلَ ، فَقَالَ : " حَاجَتُكَ ؟ " قَالَ : حَاجَتِي تُحَدِّثُنِي : أَنْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَاجَتُكَ خَيْرٌ مِنْ حَوَائِجِهِمْ ، لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو مالک بن حنبل سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے کچھ ساتھیوں سمیت آئے لوگوں نے ان سے کہا: کہ تم ہماری سواریوں کی حفاظت کرو ، اور پھر تم آ جانا وہ ان لوگوں میں سب سے کمسن تھے ۔ انہوں نے ان لوگوں کے تمام کام کیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : میں آ جاؤں ؟ وہ اندر آ گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ کام ہے کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا ہجرت ختم ہو چکی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ، جو کام ہے وہ ان لوگوں کی ضرورت سے زیادہ بہتر ہے ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک دشمن کے ساتھ جنگ کی جاتی رہے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9282
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (270/5)»