حدیث نمبر: 9256
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَدَا جَفَا وَمَنْ تَبِعَ الصَّيْدَ غَفَلَ ، وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا " . ¤ قُلْتُ : لَمْ أَجِدْهُ فِي نُسْخَتِي مِنْ أَبِي دَاوُدَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْحَسَنَ بْنَ الْحَكَمِ النَّخْعِيَّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بدوی زندگی اختیار کرتا ہے اس میں سختی آ جاتی ہے ، جو شخص شکار کے پیچھے جاتا ہے وہ غفلت کا شکار ہو جاتا ہے ، جو شخص سلطان کے دروازے پر جاتا ہے ، وہ آزمائش میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بندہ ، سلطان کے جتنا زیادہ قریب ہوتا ہے ، وہ ( بندہ ) اللہ تعالیٰ سے اُتنا ہی دور ہوتا چلا جاتا ہے “ ۔ میں یہ کہتا ہوں : میں نے اپنے پاس موجود ” سنن ابوداؤد “ کے نسخے میں
یہ روایت نہیں پائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف حسن بن حکم نخفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9256
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1618) اخرجه احمد فى المسند (371/2)»