مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ وَالصِّبْيَانِ . باب: بیوقوف لوگوں اور بچوں کی حکومت
عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عُلَيْمٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عُلَيْمٌ : لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ : عَبْسٌ الْغِفَارِيُّ ، وَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ عَبْسٌ : يَا طَاعُونُ خُذْنِي ثَلَاثًا يَقُولُهَا فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ : لِمَ تَقُولُ هَذَا ؟ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبُ " ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا : إِمْرَةُ السُّفَهَاءِ وَبَيْعُ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَنُشُوءٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ يُغَنِّيهِمْ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي ( الْأَوْسَطِ ) وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ عَبْسٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِهِ سِتَّ خِصَالٍ : إِمْرَةُ الصِّبْيَانِ وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ وَالرُّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ وَنُشُوءٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ وَلَا بِأَفْضَلِهِمْ يُغَنِّيهِمْ غِنَاءً . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَجَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤زاذان ابوعمر نے علیم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ہم لوگ ایک چھت پر بیٹھے ہوئے تھے ، ہمارے ساتھ ایک صحابی موجود تھے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بیان کی تھی کہ وہ سیدنا عبس غفاری رضی اللہ عنہ تھے ، طاعون کی وبا کے دوران لوگ نکل رہے تھے ، سیدنا عبس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے طاعون ! تو مجھے اپنی گرفت میں لے : یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ، تو علیم نے اُن سے کہا: آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں ؟ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے : ” کوئی شخص موت کی آرزو ہرگز نہ کرے ، کیونکہ اس صورت میں اُس کا عمل منقطع ہو جائے گا اور اسے دوبارہ واپس بھی نہیں بھیجا جائے گا کہ وہ ( اللہ تعالیٰ کی ) رضا کے حصول کے لیے مزید کوشش کرتا “ ۔ تو سیدنا عبس غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” چھ چیزوں سے پہلے موت کی طرف جلدی کرو ! بیوقوفوں کی حکومت ، عدالتی فیصلے کی فروخت ، خون ( یعنی قتل ) کو کمتر سمجھنا ، رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا ، اور ایسے لوگوں کا سامنے آنا ، جو قرآن کو مزامیر بنا لیں گے ، وہ ایسے شخص کو آگے کریں گے ، جو انہیں گا کر سنائے گا ، اگرچہ وہ دین کے علم کے حوالے سے اُن میں سے کم ہو “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا عبس غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے حوالے سے ، چھ چیزوں کے بارے میں اندیشے کا اظہار کیا ، بچوں کی حکومت ، شرطیں زیادہ لگانا ، عدالتی فیصلے میں رشوت ، رشتہ داری کے حقوق کو پامال کرنا ، قتل کو ہلکا سمجھنا ، اور ایسے لوگوں کا سامنے آنا ، جو قرآن کو مزامیر بنا لیں گے ، وہ ایسے شخص کو امامت کے لیے آگے کریں گے ، جو اُن میں سب سے بڑا عالم ، یا سب سے زیادہ فضیلت والا نہیں ہو گا ، بلکہ وہ انہیں گا کر ( قرآن ) سنائے گا“ امام أحمد کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ، ایک سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔