مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْوَسْوَسَةِ . باب: وسوسہ کا بیان
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ - أَوِ ابْنِ الْحَسَنِ - عَنْ عَمِّهِ : أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوَسْوَسَةِ الَّتِي يَجِدُهَا أَحَدُهُمْ ، لَأَنْ يَسْقُطَ مِنْ عِنْدِ الثُّرَيَّا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي الْعَبْدَ فِيمَا دُونَ ذَلِكَ ، فَإِذَا عُصِمَ مِنْهُ وَقَعَ فِيمَا هُنَالِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَئِمَّةٌ . ¤عمارہ بن ابوالحسن ، یا شاید عمارہ بن حسن ، اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وسوسہ کے بارے میں دریافت کیا ، جس کا سامنا اُن میں سے کوئی ایک کرتا ہے ، کہ اس کا ثریا ستارے سے گر جانا ، اُس شخص کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ وہ شخص اُس وسوسے کے حوالے سے کلام کرے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ صریح ایمان ہے ، بیشک شیطان ، بندے کے پاس ، اس سے کم معاملے کے بارے میں آتا ہے ، تو جب وہ اس سے محفوظ ہو جاتا ہے تو پھر کسی دوسرے میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے روایت کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ائمہ ہیں ۔