مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْوَسْوَسَةِ . باب: وسوسہ کا بیان
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَيَعْرِضُ فِي نَفْسِيَ الشَّيْءُ ، لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِي هَذِهِ ، وَلَكِنَّهُ رَضِيَ بِالْمُحَقَّرَاتِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذٍ ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، بعض اوقات میرے ذہن میں ایسا خیال پیدا ہوتا ہے ، کہ میں جل کر کوئلہ بن جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں اُس خیال کے بارے میں کلام کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” اس بات پر ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے ، کہ اب میری اس سرزمین پر اُس کی عبادت کی جائے ، البتہ اب وہ تمہارے اعمال میں سے ، معمولی سی چیزوں ( یعنی گناہوں اور کوتاہیوں ) سے بھی راضی ہو جائے گا “۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یہ روایت ذر بن عبداللہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، حالانکہ انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔