حدیث نمبر: 9199
وَعَنْ أَبِي قُبَيْلٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ عِنْدَ خُطْبَتِهِ : إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا وَالْفَيْءُ فَيْئُنَا فَمَنْ شِئْنَا أَعْطَيْنَاهُ وَمَنْ شِئْنَا مَنَعْنَاهُ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْجُمُعَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِمَّنْ حَضَرَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ : كَلَّا إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا وَالْفَيْءُ فَيْئُنَا فَمَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حَاكَمْنَاهُ إِلَى اللَّهِ بِأَسْيَافِنَا ، فَنَزَلَ مُعَاوِيَةُ فَأَرْسَلَ إِلَى الرَّجُلِ فَأَدْخَلَهُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : هَلَكَ الرَّجُلُ ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ فَوَجَدُوا الرَّجُلَ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلنَّاسِ : إِنَّ هَذَا أَحْيَانِي أَحْيَاهُ اللَّهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَقُولُونَ وَلَا يُرَدُّ عَلَيْهِمْ ، يَتَقَاحَمُونَ فِي النَّارِ كَمَا تَتَقَاحَمُ الْقِرَدَةُ " . ¤ وَإِنِّي تَكَلَّمْتُ أَوَّلَ جُمُعَةٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ أَحَدٌ فَخَشِيتُ أَنْ أَكُونَ مِنْهُمْ ، ثُمَّ تَكَلَّمْتُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ فَلَمْ يَرُدَّ أَحَدٌ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : إِنِّي مِنَ الْقَوْمِ ، ثُمَّ تَكَلَّمْتُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّالِثَةِ فَقَامَ هَذَا الرَّجُلُ فَرَدَّ عَلَيَّ فَأَحْيَانِي أَحْيَاهُ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوقبیل بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے ، خطبے کے دوران انہوں نے یہ ارشاد فرمایا : ” یہ ( سرکاری ) مال ، ہمارا مال ہے اور مال فے ، ہمارا مال فے ہے ہم جسے چاہیں گے ، اُسے ( یہ مال ) دیں گے اور جسے چاہیں گے اسے نہیں دیں گے ، کسی نے انہیں کچھ نہیں کہا: ، جب اگلا جمعہ آیا ، تو انہوں نے اس کی مانند بات کہی ، لیکن پھر کسی نے انہیں کچھ نہیں کہا: ، جب تیسرا جمعہ آیا ، تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی ، تو مسجد میں موجود حاضرین میں سے ایک صاحب ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور بولے : ہرگز نہیں ! یہ ( سرکاری ) مال ، ہمارا مال ہے اور مال غنیمت ، ہمارا مال غنیمت ہے ، جو شخص اس کے بارے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گا ، ہم اپنی تلواروں کے ہمراہ اُس کا مقدمہ ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کریں گے ، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اترے ( اور نماز کے بعد گھر تشریف لے گئے ) تو انہوں نے اُس شخص کو پیغام بھیجا ، اس کو ان کے پاس لے جایا گیا ، لوگوں نے کہا: یہ شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا ، جب لوگ اندر اُن کے پاس آئے ، تو انہوں نے اُس شخص کو پلنگ پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا : اس شخص نے مجھے زندگی دی ہے ، اللہ تعالیٰ اسے زندگی دے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” عنقریب میرے بعد حکمران آئیں گے ، وہ ( غلط ) بات کریں گے اور کوئی اُن کو جواب نہیں دے گا اور وہ جہنم میں یوں اچھلتے پھریں گے ، جس طرح بندر اچھلتے ہیں “ ۔ میں نے پہلے جمعہ کلام کیا ، تو کسی نے مجھے کچھ نہیں کہا: ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ میں اُن لوگوں میں سے ایک ہوؤں گا ، پھر میں نے دوسرے جمعہ کلام کیا ، تو کسی نے مجھے کچھ نہیں کہا: ، تو میں نے دل میں سوچا کہ میں اُن لوگوں میں سے ہوں ، پھر میں نے تیسرے جمعہ کلام کیا ، تو یہ شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے مجھے جواب دیا ، ( یا میری بات کو مسترد کیا ) تو اس نے مجھے زندگی دی ہے ، اللہ تعالیٰ اسے زندگی دے ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9199
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7382) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (5444) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (393/19)»