حدیث نمبر: 9190
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ ظلم سے بچ کے رہو ! کیونکہ ظلم ، قیامت کے دن تاریکیوں کی شکل میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ” کیا تم لات اور عزیٰ کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو اور منات کے بارے میں جو تیسرا ہے “ اس وقت شیطان نے ، ان لوگوں کے درمیان بتوں کا ذکر القاء کر دیا اور یہ کہا: یہ بلند مرتبے والے ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جا سکتی ہے ، یہ شیطان نے لفظ بنائے تھے ، اور یہ اس کی آزمائش تھی ، یہ دونوں کلمات ہر مشرک کے دل میں آ گئے ، اور ان کی زبان پر جاری ہو گئے اور انہوں نے ان کلمات کے ذریعے خوشخبری حاصل کی اور یہ کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلے دین کی طرف اور اپنی قوم کے دین کی طرف رجوع کر لیا ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورت کے آخر میں پہنچے ، تو آپ نے سجدہ تلاوت کیا اور وہاں آپ کے ساتھ موجود ، ہر مسلمان اور مشرک شخص نے سجدہ تلاوت کیا ، صرف ولید بن مغیرہ نے نہیں کیا ، کیونکہ وہ عمر رسیدہ شخص تھا ، اس نے مٹھی بھر مٹی لی اور اس پر سجدہ کر لیا ، دونوں فریقوں کو سجدے میں یہ اجتماع اچھا لگا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے کی پیروی میں تھا ، مسلمانوں کو اس بات سے خوشی ہوئی کہ مشرکین نے ایمان لائے بغیر اور یقین کا اظہار کیے بغیر سجدہ کیا ہے ، مسلمانوں نے وہ بات نہیں سنی تھی جو شیطان نے مشرکین کی زبانوں پر ڈالی تھی ، مشرکین اس حوالے سے مطمئن تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب نے اس چیز کو سن لیا ہے ، جو شیطان نے ڈالی ہے اور شیطان نے ان کے سامنے یہ چیز ظاہر کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کے دوران اسے پڑھا ہے ، تو ان لوگوں نے اپنے باطل معبودوں کی تعظیم کے لئے سجدہ کیا تھا ۔ یہ کلمہ لوگوں کے درمیان پھیل گیا اور شیطان نے اسے ظاہر کر دیا ، یہاں تک کہ یہ بات حبشہ تک پہنچ گئی ، یہاں تک کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ، جن کا تعلق اہل مکہ سے تھا ، انہوں نے یہ بات سنی کہ لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو گئے ہیں اور انہیں ولید بن مغیرہ کے ہتھیلی پر مٹی رکھ کر اس پر سجدہ کرنے کی اطلاع ملی تو وہ لوگ جلدی سے آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات گراں گزری ، جب شام ہوئی ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے شکایت کی ، انہوں نے کہا: ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی ، جب آپ اس مقام پر پہنچے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ، اور یہ کہا: میں ان دونوں کلمات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، یہ میرے پروردگار نے نازل نہیں کیے ہیں ، اور آپ کے پروردگار نے ان کے بارے میں حکم بھی نہیں دیا ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال ملاحظہ فرمائی ، تو یہ بات آپ پر گراں گزری ، آپ نے فرمایا : کیا میں نے شیطان کی اطاعت کر لی ہے اور میں نے اس کے کلام کے مطابق کلام کر لیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں میرا شریک بن گیا ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو منسوخ کر دیا ، جو شیطان نے القاء کی تھی ، پھر یہ آیت نازل کی : ” اور تم سے پہلے ہم نے جس بھی رسول یا نبی کو مبعوث کیا ، اور ( رسول یا نبی ) نے جب ( اللہ کے کلام کی ) تلاوت کی ، تو شیطان نے اس کی تلاوت کی ہوئی چیز میں ( اپنی طرف سے کوئی چیز ) ڈال دی ، تو شیطان جو ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اسے باطل ( یا کالعدم ) کر دیتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم ( یعنی مضبوط ) کر دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے ، ( ایسا اس لیے ہوتا ہے ) تاکہ وہ ( یعنی اللہ تعالیٰ ) شیطان کی ڈالی ہوئی چیز کو ان لوگوں کے لیے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں ، بیشک ظالم لوگ شدید مخالفت میں ہیں “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9190
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (25/20)»