حدیث نمبر: 9187
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : تَنَاوَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَجُلًا بِشَيْءٍ فَنَهَاهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ : أَغْضَبْتَ الْأَمِيرَ . فَأَتَاهُ فَقَالَ : لَمْ أُرِدْ أَنْ أُغْضِبَكَ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّهُمْ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : فَقِيلَ لَهُ : أَغْضَبْتَ الْأَمِيرَ . وَزَادَ : اذْهَبْ فَخَلِّ سَبِيلَهُمْ . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا خَالِدَ بْنَ حَكِيمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي النُّصْحِ لِلْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین

خالد بن حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو برا بھلا کہا: ، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا تو وہ بولے : تم نے امیر کو غضبناک کر دیا ہے ؟ وہ اُن کے پاس آئے اور بولے : میں نے آپ کو غضبناک کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ، سب سے زیادہ سخت عذاب ، اُن لوگوں کو ہو گا ، جو دنیا میں لوگوں کو زیادہ سخت عذاب دیتے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اُن سے کہا: گیا : آپ نے امیر کو غضبناک کر دیا ہے ؟ “ اور یہ الفاظ بھی زائد ہیں : ” تم جاؤ اور ان لوگوں کو چھوڑ دو ! “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف خالد بن حکیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس سے پہلے حکمرانوں کی خیر خواہی کے بارے میں حدیث گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9187
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4122 و 4121 و 3824) اخرجه احمد فى المسند (90/4)»