مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عُمَّالِ السُّوءِ وَأَعْوَانِ الظَّلَمَةِ . باب: برے اہلکاروں اور ظالموں کے مددگاروں کا بیان
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : رَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَجُلًا فَأَعْجَبَتْهُ هَيْئَتُهُ فَقَالَ : مِمَّنِ الرَّجُلُ ؟ قَالَ : رَجُلٌ مِمَّنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ . قَالَ : فَكُلُّنَا مِمَّنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ . قَالَ : كُلُّنَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنَ النِّبْطِ . قَالَ : تَنَحَّ عَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَتَلَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَعْوَانُ الظَّلَمَةِ فَإِذَا اتَّخَذُوا الرِّبَاعَ وَشَيَّدُوا الْبُنْيَانَ فَالْهَرَبَ الْهَرَبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مِغْوَلٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا اُس کی ہیئت انہیں اچھی لگی ، انہوں نے دریافت کیا : یہ شخص کس سے تعلق رکھتا ہے ؟ تو اس نے بتایا : یہ ان لوگوں میں سے ہے ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے ، سیدنا ابوہریرہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم سب اُن لوگوں میں سے ہیں ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے ، تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : اہل زمین سے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم سب اہل زمین سے ہیں ، تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے کہا: نبطیوں ( یہ عراق اور اردن کے درمیان رہنے والی ایک قوم ہے ) سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھ سے دور ہو جاؤ ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ لوگ انبیاء کے قاتل اور ظالموں کے مددگار ہیں ، جب یہ لوگ زمینیں کھانا شروع کریں ، اور عمارتیں قائم کریں ، تو ان سے دور ) بھاگ جانا ، بھاگ جانا ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغوول ہے اور وہ متروک ہے ۔