حدیث نمبر: 9178
وَعَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْقُرَشِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالَ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ إِنَّ أَهْلَ الطَّفِّ لَا يُؤَدُّونَ زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ . فَقَالَ : وَمَا كَانَ قَالَهُ قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُ الْأَمِيرَ فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مَنْ عَبْدِ الْقَيْسِ . فَقَالَ : مَا اسْمُكَ ؟ فَقَالَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ . فَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ شُرْطَتِهِ فَقَالَ : ابْعَثْ إِلَى عَبْدِ الْقَيْسِ . فَسَأَلَ عَنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيهِمْ ؟ فَرَجَعَ الرَّسُولُ فَقَالَ : وَجَدْتُهُ يُغْمَزُ فِي حَسَبِهِ . فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَبْغِي عَلَى النَّاسِ إِلَّا وَلَدُ بَغِيٍّ وَإِلَّا مَنْ فِيهِ عِرْقٌ مِنْهُ " . وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ : " لَا يَسْعَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَبُو الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوولید قریشی بیان کرتے ہیں : میں بلال بن ابوبردہ کے پاس موجود تھا ، عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ” طف “ کے رہنے والے لوگ اپنے اموال کی زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس نے جو بات بیان کی تھی ، مجھے اُس کا علم تھا ، میں نے اس بارے میں امیر کو بتایا ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : عبدالقیس قبیلے سے ، انہوں نے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے بتایا : فلاں بن فلاں ، انہوں نے وہاں کے کوتوال کو خط لکھا اور فرمایا : تم عبدالقیس قبیلے میں کسی کو بھیج کر فلاں بن فلاں کے بارے میں دریافت کرو کہ اُن کے درمیان اس شخص کا حسب کیسا ہے ؟ قاصد واپس آیا اور اس نے بتایا : میں نے یہ بات پائی ہے کہ اُس کے حسب پر اعتراض کیا جاتا ہے ، تو بلال بن ابوبردہ نے فرمایا : اللہ اکبر ! میرے والد نے ، میرے دادا سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگوں کے خلاف سرکشی وہ شخص کرے گا ، جو سرکشی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو گا یا اس ( کی پیدائش ) میں اُس ( سرکشی ) کا حصہ ہو گا “ ۔ ابوولید نامی راوی نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : ” وہ ( لوگوں کے خلاف ) کوشش کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابوولید قرشی نامی راوی مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9178
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف