حدیث نمبر: 9134
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : أَنْكَرَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ فِي زَمَنِ حُذَيْفَةَ شَيْئًا ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ قَاعِدٌ فِي حَلْقَةٍ فَقَامَ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلَا تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ فَرَفَعَ حُذَيْفَةُ رَأْسَهُ ، فَعَرَفَ مَا أَرَادَ ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : إِنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ لَحَسَنٌ ، وَلَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تُشْهِرَ السِّلَاحَ عَلَى أَمِيرِكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ خَالِدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . ¤
محمد محی الدین

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے اس وقت کے گورنر کی کسی چیز کا انکار کیا ایک شخص شہر کی بڑی مسجد میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا آیا اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تک پہنچ گیا جو اس وقت ایک حلقے میں تشریف فرما تھے وہ ان کے سرہانے کھڑا ہوا اور بولا: اے اللہ کے رسول کے صحابی کیا آپ نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے منع نہیں کریں گے ؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا انہیں اس کی مراد کا اندازہ ہو گیا ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا اچھا کام ہے ، لیکن یہ سنت نہیں ہے کہ تم اپنے امیر کے خلاف ہتھیار اٹھا لو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن خالد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9134
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1633)»