حدیث نمبر: 9118
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا ، وَعَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ ، وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا مَؤُونَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ ، فَلَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین قسم کے لوگ ہیں جن سے سوال نہیں کیا جائے گا ایک وہ شخص جو جماعت سے الگ ہو جائے ، اور حکمران کی نافرمانی کرے اور نافرمان ہونے کے عالم میں مر جائے ایک وہ غلام یا کنیز جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ جائے ، اور ایک وہ عورت جس کا شوہر موجود نہ ہو اور اس کے شوہر نے اسے تمام ضروریات کی چیزیں فراہم کی ہوئی ہوں ، اور اس کے بعد وہ اپنی زینت کو ظاہر کر دے ، تو ان سے سوال نہیں کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (306/18)»