مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ وَطَاعَةُ الْأَئِمَّةِ وَالنَّهْيِ عَنْ قِتَالِهِمْ . باب: جماعت کے ساتھ رہنا حکمرانوں کی اطاعت کرنا اور ان کے ساتھ جنگ کرنے کی ممانعت
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى الْأَشْعَرِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَمَسَّكُوا بِطَاعَةِ أَئِمَّتِكُمْ وَلَا تُخَالِفُوهُمْ ، فَإِنَّ طَاعَتَهُمْ طَاعَةُ اللَّهِ ، وَإِنَّ مَعْصِيَتَهُمْ مَعْصِيَةُ اللَّهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا بَعَثَنِي أَدْعُو إِلَى سَبِيلِهِ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ، فَمَنْ خَلَفَنِي فِي ذَلِكَ فَهُوَ وَلِيِّي وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِكُمْ شَيْئًا فَعَمِلَ بِغَيْرِ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، وَسَيَلِي أُمَرَاءُ إِنِ اسْتُرْحَمُوا لَمْ يَرْحَمُوا ، وَإِنْ سُئِلُوا الْحَقَّ لَمْ يُعْطُوا ، وَإِنْ أُمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ أَنْكَرُوا وَسَتَخَافُونَهُمْ وَيَتَفَرَّقُ مَلَأُكُمْ حَتَّى لَا يَحْمِلُوكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا احْتَمَلْتُمْ عَلَيْهِ طَوْعًا وَكَرْهًا ، فَأَدْنَى الْحَقِّ أَنْ لَا تَأْخُذُوا لَهُمْ عَطَاءً وَلَا يُحَضَرُ لَهُمْ فِي الْمَلَأِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا ابولیلیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا : ” اپنے حکمرانوں کی اطاعت کو مضبوطی سے تھام کے رکھو ان کی مخالفت نہ کرو کیونکہ ان کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے ، اور ان کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے تاکہ میں حکمت اور اچھے وعظ کے ذریعے اس کے راستے کی طرف دعوت دوں جو شخص میرے بعد میرا جانشین ہو گا وہ میرا ولی ہو گا ، اور جو شخص تمہارے کسی معاملے کا نگران بنے گا ، اور اس کے علاوہ عمل کرے گا ، تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اور عنقریب ایسے حکمران آئیں گے کہ اگر ان سے رحم مانگا جائے گا ، تو وہ رحم نہیں کریں گے اگر ان سے حق مانگا جائے گا ، تو وہ نہیں دیں گے اگر انہیں نیکی کا حکم دیا جائے گا ، تو وہ انکار کریں گے اور عنقریب تم ان سے ڈرو گے اور تمہارا اجتماعی شیرازہ منتشر ہو جائے گا یہاں تک کہ وہ جب تمہیں کسی بات کا پابند کریں گے ، تو تمہیں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ویسا کرنا پڑے گا ، اور زیادہ مناسب یہ ہے ، کہ تم ان سے تنخواہ نہ وصول کرو اور نہ ہی ان کی محفل میں حاضر ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔