حدیث نمبر: 9112
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ مَهْمَا كَانَ ، فَإِنْ أَمَرُوكُمْ بِشَيْءٍ مِمَّا جِئْتُكُمْ بِهِ فَإِنَّهُمْ يُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ وَتُؤْجَرُونَ بِطَاعَتِهِمْ ، وَإِنْ أَمَرُوكُمْ بِشَيْءٍ مِمَّا لَمْ آتِكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ عَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرَآءُ ، ذَلِكُمْ بِأَنَّكُمْ إِذَا لَقِيتُمُ اللَّهَ قُلْتُمْ : رَبَّنَا لَا ظُلْمَ ، فَيَقُولُونَ : لَا ظُلْمَ فَتَقُولُونَ : رَبَّنَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رُسُلًا فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ وَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا خُلَفَاءَ فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ وَأَمَّرْتَ عَلَيْنَا أُمَرَاءَ فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ فَيَقُولُ : صَدَقْتُمْ هُوَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرَآءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنے امراء کی اطاعت کرو خواہ وہ جو بھی ہیں اگر وہ تمہیں کسی ایسی چیز کے بارے میں حکم دیں جو میں تمہارے پاس لے کے آیا ہوں تو انہیں اس کا اجر ملے گا ، اور تمہیں ان کی فرمانبرداری کا اجر ملے گا ، اور اگر وہ تمہیں کسی ایسی چیز کے بارے میں حکم دیں ، جو میں تمہارے پاس نہیں لے کے آیا تو اس کا وبال ان لوگوں پر ہو گا اور تم لوگ لاتعلق ہو گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گے ، تو تم لوگ یہ کہو گے اے ہمارے پروردگار کوئی ظلم نہیں ہو گا وہ کہیں گے کوئی ظلم نہیں ہو گا ، تو تم کہو گے اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہماری طرف رسول بھیجے ، تو ہم نے تیرے اذن کے تحت ان کی اطاعت کی پھر تو نے ہم پر ان کے جانشین مقرر کیے ہم نے تیرے اذن کے تحت ان کی اطاعت کی پھر تو نے ہم پر امراء مقرر کیے ہم نے تیرے اذن کے تحت ان کی اطاعت کی ، تو پروردگار فرمائے گا : تم لوگوں نے سچ کہا: ہے اس کا وبال ان لوگوں پر ہو گا اور تم لوگ لاتعلق ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (278/20)»