حدیث نمبر: 9111
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ بَايَعْتَ أَمِيرَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَ أَهْلُ الشَّامِ فَسَاقُونِي إِلَى حُبَيْشِ بْنِ دُلْجَةَ فَبَايَعْتُهُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ ، ( إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِهَا حَمَّادٌ صَوْتَهُ ) قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ يَوْمًا وَلَا يُصْبِحَ صَبَاحًا وَلَا يُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ " . ¤ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُبَايِعَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَبِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

بشر بن حرب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور بولے : اے ابوسعید ! مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ آپ نے لوگوں کے کسی ایک امیر پر اکٹھا ہونے سے پہلے ہی دو امیروں کی بیعت کر لی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے پہلے ابن زبیر کی بیعت کی تھی پھر اہل شام آئے ، اور مجھے ہانک کر حبیش بن دلجہ کے پاس لے گئے ، تو میں نے اس کی بھی بیعت کر لی ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا دوسری مرتبہ میں حماد نے بلند آواز کر کے یہ بات نقل کی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوعبدالرحمن کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ دن کے وقت نہ سوئے ، اور ایسی حالت میں صبح نہ کرے یا شام نہ کرے مگر یہ کہ کوئی اس پر امیر ہونا چاہیے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ کسی ایک امیر پر لوگوں کے اکٹھا ہونے سے پہلے میں دو امیروں کی بیعت کر لوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ بشر بن حرب نامی راوی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (29/3)»