حدیث نمبر: 911
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَاصٍّ يَقُصُّ فَأَمْسَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُصَّ ، فَلَأَنْ أَقْعُدَ غَدْوَةً إِلَى أَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّ لَفْظَ الطَّبَرَانِيِّ : " أَقُصُّ ، فَلَأَنْ أَقْعُدَ هَذَا الْمُقْعَدَ مِنْ حِينِ تُصَلِّي الْغَدَاةَ إِلَى أَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ " - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنَّ فِيهِ أَبَا الْجَعْدِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ; فَإِنْ كَانَ هُوَ الْغَطْفَانِيَّ ، فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قصہ بیان کرنے والے شخص کے پاس تشریف لائے ، جو کچھ بیان کر رہا تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر وہ شخص رک گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم قصہ بیان کرو ! صبح سے لے کر سورج کے نکلنے تک میں بیٹھا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں چار غلام آزاد کر دوں ، اور عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک میں بیٹھا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں چار غلام آزاد کر دوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ امام طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” تم قصہ بیان کرو ! میں یہاں بیٹھ جاؤں ، اُس وقت سے جب تم صبح کی نماز ادا کرتے ہو ، اس وقت سے لے کر سورج کے چمکنے تک ( بیٹھا رہوں ) “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابوالجعد نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، اگر تو یہ غطفانی ہے ، تو پھر یہ صحیح کے رجال میں سے ایک ہے ، اور اگر یہ اُس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 261/5 اورده المؤلف فى زوائد المسند 261»