حدیث نمبر: 9097
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ - أَوْ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ - : " مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ وَمَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - ، وَالتَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ شُكْرٌ وَتَرْكُهَا كُفْرٌ ، وَالْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ " . ¤ قَالَ : فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ : عَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : مَا السَّوَادُ الْأَعْظَمُ ؟ فَنَادَى أَبُو أُمَامَةَ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ النُّورِ : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لکڑیوں پر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی : ” جو شخص تھوڑے کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بارے میں بات چیت کرنا شکر ہے ، اور اس ( نعمت کے اظہار و اعتراف ) کو ترک کرنا کفر ہے ، اور جماعت رحمت ہے ، اور فرقہ بندی عذاب ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں پر سواد اعظم کے ساتھ رہنا لازم ہے ایک صاحب نے دریافت کیا : سواد اعظم سے مراد کیا ہے ؟ تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں یہ آیت تلاوت کی جو سورہ نور میں ہے : ” اگر وہ لوگ منہ موڑ لیتے ہیں ، تو اس ( رسول ) کے ذمہ وہ ہے جو اس پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9097
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1637) اخرجه احمد فى المسند (278/4)»