مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ وَطَاعَةُ الْأَئِمَّةِ وَالنَّهْيِ عَنْ قِتَالِهِمْ . باب: جماعت کے ساتھ رہنا حکمرانوں کی اطاعت کرنا اور ان کے ساتھ جنگ کرنے کی ممانعت
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قِيلَ : اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ فَأُذِنَ لَهُ ، فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلَدِ - وَهِيَ مِنًى - فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ : إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ : عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ثُمَّ تَصْنَعُهُ ؟ قَالَ : الْخِلَافُ أَشَدُّ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَنَا وَقَالَ : " إِنَّهُ كَائِنٌ بِعْدِي سُلْطَانٌ فَلَا تُذِلُّوهُ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُذِلَّهُ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ ، وَلَيْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْهُ تَوْبَةٌ حَتَّى يَسُدَّ ثُلْمَتَهُ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَكُونُ فِيمَنْ يُعَزِّرُهُ " . ¤ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( أَنْ ) لَا تَغْلِبُونَا عَلَى ثَلَاثٍ : ( أَنْ ) نَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَنَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَنُعَلِّمُ النَّاسَ السُّنَنَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے لئے کچھ سامان لاد کر گئے ہمارا یہ ارادہ تھا کہ یہ انہیں دیں گے ، جب ہم ربذہ آئے ، اور ان کے بارے میں دریافت کیا : ، تو وہ ہمیں نہیں ملے اور ہمیں یہ بتایا گیا کہ وہ حج کے لئے تشریف لے گئے ہیں ہم شہر آ گئے یعنی منی آ گئے ، ایک مرتبہ ہم ان کے پاس موجود تھے انہیں بتایا گیا : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعت ادا کر لیں ہیں ، تو انہوں نے شدید ناگواری کا اظہار کیا اور اس بارے میں انہوں نے سخت کلمات کہے ، اور یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت ادا کی تھیں اور میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ( انہوں نے بھی دو رکعت ہی ادا کی تھیں ) پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے چار رکعت ادا کر لیں ان سے کہا: گیا آپ نے پہلے امیرالمؤمنین پر اس حوالے سے اعتراض کیا تھا ، اور پھر خود وہی کام کر لیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : ( حاکم وقت سے ) اختلاف کرنا زیادہ شدت والا کام ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد حکمران ہوں گے ، تم انہیں ذلت کا شکار نہ کرنا جو شخص انہیں ذلت کا شکار کرنے کا ارادہ کرے گا وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دے گا ایسے شخص کی ، توبہ قبول نہیں ہو گی جب تک وہ اپنے بنائے ہوئے شگاف کو پر نہیں کرتا اور وہ ایسا نہیں کر سکے گا اور پھر وہ شخص واپس آئے ، اور ان لوگوں میں شامل ہو جائے جو اس حکمران کا ساتھ دیتے ہیں “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم تین چیزوں کے حوالے سے مغلوب نہ ہوں ہم نیکی کا حکم دیں ہم برائی سے منع کریں اور لوگوں کو سنتوں کی تعلیم دیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔