حدیث نمبر: 9088
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقًّا ، وَلِلْأَئِمَّةِ عَلَيْكُمْ حَقًّا ، مَا قَامُوا ثَلَاثًا : إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا ، وَإِذَا عَاهَدُوا أَوْفُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرا تم پر حق ہے ، اور حکمرانوں کا بھی تم پر حق ہے ، جب تک وہ تین چیزیں قائم رکھیں جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو وہ رحم کریں اور جب وہ فیصلہ دیں ، تو انصاف سے کام لیں اور جب وہ عہد کریں ، تو اسے پورا کریں ان میں سے جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ایسے لوگوں کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9088
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف