مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْغَضِّ عَنِ الرَّعِيَّةِ ، وَعَنْ تَتَبُّعِ عَوْرَاتِهِمْ . باب: رعایا سے اور ان کے پوشیدہ معاملات کی تفتیش سے چشم پوشی کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا وَلِيَ أَحَدٌ وِلَايَةً إِلَّا بُسِطَتْ لَهُ الْعَافِيَةُ ، فَإِنْ قَبِلَهَا بُسِطَتْ لَهُ وَتَمَّتْ لَهُ ، وَإِنْ حَفَزَ عَنْهَا فُتِحَ لَهُ مَا لَا طَاقَةَ لَهُ بِهِ " . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا حَفَزَ عَنْهَا ؟ قَالَ : تَطْلُبُ الْعَثَرَاتِ وَالْعَوْرَاتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جو شخص کسی عہدے کا نگران بنتا ہے ، اور اس کے لئے عافیت کو پھیلا دیا جاتا ہے ، تو اگر وہ اسے قبول کر لے گا ، تو اس کے لئے اسے پھیلایا جائے گا ، اور اس کے لئے اسے مکمل کیا جائے گا ، اور اگر وہ اس کو پس پشت ڈال دیتا ہے ، تو اس کے لئے وہ چیز کشادہ کر دی جائے گی جس کی اس میں طاقت نہیں ہو گی “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : لفظ حفز عنہا کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ ان کے لغزشوں اور پوشیدہ معاملات کی تفتیش کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔