حدیث نمبر: 9084
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا وَلِيَ أَحَدٌ وِلَايَةً إِلَّا بُسِطَتْ لَهُ الْعَافِيَةُ ، فَإِنْ قَبِلَهَا بُسِطَتْ لَهُ وَتَمَّتْ لَهُ ، وَإِنْ حَفَزَ عَنْهَا فُتِحَ لَهُ مَا لَا طَاقَةَ لَهُ بِهِ " . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا حَفَزَ عَنْهَا ؟ قَالَ : تَطْلُبُ الْعَثَرَاتِ وَالْعَوْرَاتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جو شخص کسی عہدے کا نگران بنتا ہے ، اور اس کے لئے عافیت کو پھیلا دیا جاتا ہے ، تو اگر وہ اسے قبول کر لے گا ، تو اس کے لئے اسے پھیلایا جائے گا ، اور اس کے لئے اسے مکمل کیا جائے گا ، اور اگر وہ اس کو پس پشت ڈال دیتا ہے ، تو اس کے لئے وہ چیز کشادہ کر دی جائے گی جس کی اس میں طاقت نہیں ہو گی “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : لفظ حفز عنہا کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ ان کے لغزشوں اور پوشیدہ معاملات کی تفتیش کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9084
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11220)»