مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ مُغْلَقٌ أَنْ يُشْعِلَهُ نَارًا ، وَإِنْ كَانَ بُكْرَةً رَاحَ بِهِ ، وَإِنْ كَانَ عَشِيَّةً غَدَا بِهِ بُكْرَةً ، فَقَدِمَ عَمَّارُ الْكُوفَةَ فَحَرَقَ عَلَيْهِ الْبَابَ وَأَشْخَصَ . باب: رعایا کے حق میں ان کی خیرخواہی کا بیان
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : جَاءَ بِلَالٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ بِالشَّامِ وَحَوْلَهُ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ جُلُوسٌ فَقَالَ : يَا عُمَرُ . فَقَالَ : هَا أَنَا عُمَرُ . فَقَالَ لَهُ بِلَالٌ : إِنَّكَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَ هَؤُلَاءِ ، وَلَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ اللَّهِ أَحَدٌ ، فَانْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَمِنْ خَلْفِكَ ، هَؤُلَاءِ الَّذِينَ حَوْلَكَ إِنْ يَأْكُلُونَ ، إِلَّا لُحُومَ الطَّيْرِ قَالَ : صَدَقْتَ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ مِنْ مَجْلِسِي هَذَا حَتَّى تَكْفُلُوا لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُ وَحَظَّهُ مِنَ الزَّيْتِ وَالْخَلِّ . فَقَالُوا : هَذَا إِلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكَ مِنَ الرِّزْقِ وَأَكْثَرَ مِنَ الْخَيْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو اس وقت شام میں موجود تھے اور ان کے اردگرد لشکروں کے امیر بیٹھے ہوئے تھے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سیدنا عمر ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں یہاں ہوں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اللہ تعالیٰ اور ان لوگوں کے درمیان ہیں لیکن آپ کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی نہیں ہے ، تو آپ اپنے دائیں طرف بھی دیکھیں اور بائیں طرف بھی دیکھیں اور آپ آگے بھی جائزہ لیں اور پیچھے بھی دیکھیں یہ لوگ جو آپ کے اردگرد موجود ہیں یہ لوگ صرف پرندوں کا گوشت کھاتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا: ہے اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں اٹھوں گا ، جب تک تم لوگ اس بات کی ضمانت نہیں دیتے کہ مسلمانوں کے ہر فرد کو اس کا کھانا اور زیتون اور سرکہ میں سے اس کا حصہ ملے گا ان لوگوں نے کہا: اے امیرالمؤمنین آپ کو یہ چیز ملتی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رزق میں وسعت عطا کی ہے ، اور زیادہ بھلائی عطا کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور مامون ہیں ۔