حدیث نمبر: 906
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُقَصُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَبِي بَكْرٍ . كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ ، اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَقُصَّ عَلَى النَّاسِ قَائِمًا فَأَذِنَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سائب بن یزید بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قصہ گوئی نہیں کی جاتی تھی ، اس کا آغاز سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کیا ، انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر قصے بیان کریں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دیدی ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے جو ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 906
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف