حدیث نمبر: 9047
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلٌّ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَالْأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى النَّاسِ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ زَوْجَتِهِ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ لِزَوْجِهَا وَمَسْؤُولَةٌ عَنْ بَيْتِهَا وَوَلَدِهَا ، وَالْمَمْلُوكُ رَاعٍ عَلَى مَوْلَاهِ وَمَسْؤُولٌ عَنْ مَالِهِ ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَأَعِدُّوا لِلْمَسَائِلِ جَوَابًا " . ¤ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جَوَابُهَا ؟ قَالَ : " أَعْمَالُ الْبِرِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْأَوْسَطِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے ، اور اس شخص سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا امیر ( یعنی حکمران ) لوگوں کا نگران ہے اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا آدمی اپنے اہل خانہ کا نگران ہے اس سے اس کی بیوی کے بارے میں اور اس کے زیر ملکیت لوگوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا عورت اپنے شوہر کے حوالے سے نگران ہے اس سے اُس کے گھر اور اس کے بچوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا غلام اپنے آقا کے حوالے سے نگران ہے اس سے اس کے مال کے بارے میں حساب لیا جائے گا تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے ، اور تم میں سے ہر ایک شخص سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا ، تو تم حساب کے لئے جواب تیار رکھو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا جواب کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نیکی کے کام “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ معجم اوسط کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9047
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (450)»