حدیث نمبر: 9022
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأَتُكُمْ عَنِ الْإِمَارَةِ وَمَا هِيَ ؟ " . فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَثَانِيهَا نَدَامَةٌ وَثَالِثُهَا عَذَابٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ عَدَلَ ، وَكَيْفَ يَعْدِلُ مَعَ قَرَابَتِهِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر تم چاہو تو میں تمہیں امارت کے بارے میں بتاتا ہوں کہ وہ کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ، تو میں نے تین مرتبہ بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی پہلی چیز ملامت ہے دوسری ملامت ہے ، اور تیسری قیمت کے دن عذاب ہے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو عدل سے کام لیتا ہے ، اور اپنے قرابت داروں کی موجودگی میں وہ کیسے عدل کر سکتا ہے ؟ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9022
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1597) اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (6891) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (71/18 و 1214)»