حدیث نمبر: 9021
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، وَهُوَ أَخِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، وَهُوَ افْتَتَحَ إِيلِيَاءَ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، وَهُوَ يُرَاجِعُ مُعَاوِيَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَذْكُرُ الْإِمَارَةَ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ الْإِمَارَةَ فَقَالَ : " أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ ، وَثَانِيهَا نَدَامَةٌ ، وَثَالِثُهَا عَذَابٌ [ مِنَ اللَّهِ ] يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ رَحِمَ وَعَدَلَ وَقَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا بِيَدِهِ بِالْمَالِ " . ثُمَّ سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ : " كَيْفَ بِالْعَدْلِ مَعَ ذِي الْقُرْبَى؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ جو سیدنا حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں اور انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے لئے ایلیاء کو فتح کیا تھا انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امارت کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو امارت کا ذکر کرتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کی پہلی چیز ملامت ہے دوسری ندامت ہے ، اور تیسری چیز قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا عذاب ہو گا البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو رحم کرتا ہے ، اور عدل سے کام لیتا ہے ، اور اس اس طرح کرتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے مال کے بارے میں فرمایا ( کہ وہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) پھر جب تک اللہ کو منظور تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک خاموش رہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : رشتے داروں کی موجودگی میں عدل کیسے ہو سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم مزنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9021
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7186)»