حدیث نمبر: 8999
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى يَطْلُعَ ، فَكُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِي الْجَوْرِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ ، ثُمَّ يَأْتِي اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِالْعَدْلِ ، فَكُلَّمَا جَاءَ مِنَ الْعَدْلِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِي الْعَدْلِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيَهِمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد ظلم آ جائے گا ، اور جب بھی ظلم سامنے آئے گا ، تو اتنا ہی عدل رخصت ہو جائے گا یہاں تک کہ ظلم کے زمانے میں کوئی بچہ پیدا ہو گا اسے ظلم کے علاوہ کسی اور چیز کا پتہ ہی نہیں ہو گا پھر اللہ تعالیٰ عدل لے آئے گا پھر جیسے جیسے عدل آئے گا اسی حساب سے ظلم رخصت ہوتا جائے گا یہاں تک کہ عدل کے زمانے میں کوئی بچہ پیدا ہو گا اسے اس کے علاوہ کسی چیز ( یعنی ظلم ) کا پتہ ہی نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن طہمان ہے ، جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ابن حبان کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8999
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (26/5)»