مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَدْلِ وَالْجَوْرِ . باب: انصاف اور ظلم کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السُّلْطَانُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَأْوِي إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُومٍ مِنْ عِبَادِهِ ، فَإِنْ عَدَلَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَكَانَ - يَعْنِي عَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ - وَإِنْ جَارَ أَوْ حَافَ أَوْ ظَلَمَ كَانَ عَلَيْهِ الْوِزْرُ وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الصَّبْرُ ، وَإِذَا حُورِبَ الْوُلَاةُ قَحَطَتِ السَّمَاءُ ، وَإِذَا مُنِعَتِ الزَّكَاةُ هَلَكَتِ الْمَوَاشِي ، وَإِذَا ظَهَرَ الزِّنَا ظَهَرَ الْفَقْرُ وَالْمَسْكَنَةُ ، وَإِذَا أَخَفَرَتِ الذِّمَّةُ أُدِيلَ الْكُفَّارُ " أَوْ كَلِمَةٌ نَحْوَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو مَهْدِيٍّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سلطان زمین میں اللہ کا سایہ ہوتا ہے جس کی طرف اللہ کے بندوں میں سے ہر مظلوم شخص پناہ کے لئے آتا ہے اگر وہ ( حکمران ) عدل سے کام لے گا ، تو اسے اجر ملے گا ، اور وہ ہو گا ( راوی کہتے ہیں : یعنی رعایا پر ) شکر لازم ہو گا ، اور اگر وہ ستم کرے یا زیادتی کرے یا ظلم کرے ، تو اس کا وبال اس پر ہو گا ، اور رعایا پر صبر کرنا لازم ہو گا ، اور جب حکمرانوں کے ساتھ جنگ کی جائے ، تو آسمان سے قحط نازل ہوتا ہے ، جب زکوۃ ادا نہ کی جائے ، تو مویشی ہلاک ہو جاتے ہیں جب زنا ظاہر ہوتا ہے ، تو غربت اور مسکینی ظاہر ہوتی ہے ، اور جب ذمہ کی خلاف ورزی کی جاتی ہے ، تو کفار کو غلبہ عطا کر دیا جاتا ہے ۔ ( راوی کہتے ہیں : یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ابومہدی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔