مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخِلَافَةِ فِي قُرَيْشٍ وَالنَّاسُ تَبَعٌ لَهُمْ . باب: خلافت کا قریش میں ہونا اور لوگوں ، ان کے پیروکار ہونا
وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : كُنْتُ أَسْمَعُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَقُولُ : لَا يَدْخَلُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَابٍ إِلَّا دَخَلَ مَعَهُ أُنَاسٌ ، فَلَا أَدْرِي مَا تَأْوِيلُ قَوْلِهِ حَتَّى طُعِنَ عُمَرُ ، فَأَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثَلَاثًا ، وَأَمَرَ أَنْ يَجْعَلَ لِلنَّاسِ طَعَامًا تِلْكَ الثَّلَاثِ الْأَيَّامِ حَتَّى يَجْتَمِعَ أَهْلُ الشُّورَى عَلَى رَجُلٍ ، فَلَمَّا رَجَعُوا مِنَ الْجِنَازَةِ جَاؤُوا وَقَدْ وُضِعَتِ الْمَوَائِدُ ، فَأَمْسَكَ النَّاسُ لِلْحُزْنِ الَّذِي هُمْ فِيهِ ، فَجَاءَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا بَعْدَهُ ، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا . أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِنْ هَذَا الطَّعَامِ ، فَمَدَّ يَدَهُ وَمَدَّ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ فَأَكَلُوا فَعَرَفْتُ تَأْوِيلَ قَوْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤احنف بن قیس بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنتا تھا : قریش سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد جس دروازے سے داخل ہو گا ، تو لوگ بھی اس کے ساتھ داخل ہوں گے احنف بن قیس کہتے ہیں : مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ ان کی بات کا مطلب کیا ہے ؟ یہاں تک کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو انہوں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں وہ تین دن تک ایسا کریں گے ۔ انہوں نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان تین دنوں میں کھانا تیار کریں یہاں تک کہ شوری کے اراکین کسی ایک فرد پر متفق ہو جائیں جب وہ لوگ جنازے سے واپس آئے ، تو کھانا رکھ دیا گیا تھا لوگ جس غم کا شکار تھے اس کی وجہ سے انہوں نے کھانا نہیں کھایا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا آپ کے بعد بھی ہم کھاتے پیتے رہے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا پھر بھی ہم کھاتے پیتے رہے ہیں ، تو اے لوگو ! تم لوگ یہ کھانا کھاؤ پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ آگے بڑھائے ، اور کھانا پینا شروع کیا اس وقت مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کا مفہوم سمجھ میں آیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔