حدیث نمبر: 8993
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجُحْفَةِ فَقَالَ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَإِنِّي سَائِلُكُمْ عَنِ اثْنَيْنِ : عَنِ الْقُرْآنِ وَعَنْ عِتْرَتِي . أَلَا وَلَا تَقَدَّمُوا قُرَيْشًا فَتَضِلُّوا ، وَلَا تَخَلَّفُوا عَنْهَا فَتَهْلِكُوا ، وَلَا تُعَلِّمُوهَا فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ . قُوَّةُ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَفْضَلُ مِنْ قُوَّةِ رَجُلَيْنِ مِنْ غَيْرِهِمْ . لَوْلَا أَنْ تَبْطُرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرَتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى ، خِيَارُ قُرَيْشٍ خِيَارُ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجفہ کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کے نزدیک تمہاری جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میں دو چیزوں کے بارے میں تم سے ، توقع رکھتا ہوں قرآن کے بارے میں اور اپنی عترت کے بارے میں ، خبردار ! تم قریش سے آگے نہ بڑھنا ورنہ تم گمراہ ہو جاؤ گے اور ان سے پیچھے بھی نہ رہ جانا ورنہ تم ہلاک ہو جاؤ گے اور انہیں تعلیم بھی نہ دینا کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں قریش کے ایک فرد کی قوت ان کے علاوہ کسی اور قوم کے دو افراد کی قوت سے زیادہ ہے اگر قریش کے سرکش ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں کیا مرتبہ و مقام حاصل ہے قریش کے بہترین لوگ ، لوگوں میں سے بہترین ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا شخص ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8993
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف