حدیث نمبر: 8968
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَمِّي عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ : " لَا يَزَالُ أَمْرُ أُمَّتِي صَالِحًا حَتَّى يَمْضِيَ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً " وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ ، فَقُلْتُ لِعَمِّي وَكَانَ أَمَامِي : مَا قَالَ يَا عَمُّ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے چچا کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ خطبہ دے رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت کا معاملہ ٹھیک رہے گا یہاں تک کہ بارہ خلفاء گزر جائیں “ ۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں کوئی بات ارشاد فرمائی ، میں نے اپنے چچا سے دریافت کیا : جو مجھ سے آگے موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ہے : اے چچا ! انہوں نے جواب دیا : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : ) ” ان سب کا تعلق قریش سے ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8968
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1585 و 1584) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (120/22)»