حدیث نمبر: 8946
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ - وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي مَرَضٍ أَصَابَهُ ثَقُلَ مِنْهُ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : مَا يُقِيمُكَ بِمَنْزِلِكَ هَذَا ؟ لَوْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ لَمْ تَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ ، تُحْمَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَإِنْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ وَصَلَّوْا عَلَيْكَ ، قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَيَّ أَنِّي : " لَا أَمُوتُ حَتَّى أُؤَمَّرَ ، ثُمَّ تُخْضَبَ هَذِهِ - يَعْنِي لِحْيَتَهُ - مِنْ هَذِهِ - يَعْنِي هَامَتَهُ - " فَقُتِلَ وَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ مَعَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ [ يَوْمَ صِفِّينَ ] . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

فضالہ بن ابوفضالہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ کا شمار اہل بدر میں ہوتا ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد ( سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گیا یہ ان کی اس بیماری کے دوران کی بات ہے جو شدید ہو چکی تھی میرے والد نے ان سے کہا: اس جگہ پر آپ کی دیکھ بھال کون کرے گا ، اگر آپ کا انتقال ہو گیا تو جہینہ قبیلے کے بدوہی آپ کی دیکھ بھال کریں گے وہ آپ کو اٹھا کر مدینہ منورہ لے جائیں گے لیکن اگر آپ کا وصال مدینہ میں ہوا تو آپ کے ساتھی آپ کی دیکھ بھال کریں گے اور آپ کی نماز جنازہ ادا کریں گے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا ، جب تک میں امیر نہیں بن جاتا اور پھر اس کو ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی داڑھی کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ) اس سے ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی یعنی میری داڑھی کو میرے سر کے خون سے ) رنگین کر دیا جائے گا ( راوی کہتے ہیں : ) ( بعد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ، اور سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ بھی جنگ صفین کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ۔ یہ راوی حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8946
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (802)»