حدیث نمبر: 8935
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ - قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ : " حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : إِنْ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ . ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ : " هَلْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ . ¤ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ : " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " ائْتُونِي بِإِنْسَانٍ أَعْتَمِدُ عَلَيْهِ " . فَجَاءَهُ بُرَيْدَةُ وَإِنْسَانٌ آخَرُ ، فَاعْتَمَدَ عَلَيْهِمَا فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَدَخْلَهُ وَأَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَنَحَّى فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُجْلِسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صِلَاتِهِ ، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ : لَا أَسْمَعُ أَحَدًا يَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا ضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ . ¤ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِذِرَاعِي فَاعْتَمَدَ عَلَيَّ ، وَقَامَ يَمْشِي حَتَّى جِئْنَا فَقَالَ : أَوْسِعُوا فَأَوْسَعُوا لَهُ ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ وَمَسَّهُ قَالَ : إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ . قَالُوا : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ ، قَالُوا : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . [ قَالُوا : كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ ؟ قَالَ ] يَدْخُلُ قَوْمٌ فَيُكَبِّرُونَ وَيَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ وَيَجِئُ آخَرُونَ حَتَّى يَفْرُغُوا . ¤ قَالُوا : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُدْفَنُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالُوا : وَأَيْنَ يُدْفَنُ ؟ قَالَ : حَيْثُ قُبِضَ فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَمْ يَقْبِضْهُ إِلَّا فِي بُقْعَةٍ طَيِّبَةٍ ، فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ : عِنْدَكُمْ صَاحِبُكُمْ ، فَأَمَرَهُمْ يُغَسِّلُونَهُ ثُمَّ خَرَجَ ، وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ يَتَشَاوَرُونَ ، فَقَالُوا : انْطَلِقُوا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَإِنَّ لَهُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا فَانْطَلَقُوا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : مِنَّا أَمِيرٌ ، وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ، فَأَخَذَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : أَخْبِرُونِي مِنْ لَهُ هَذِهِ الثَّلَاثُ ؟ ثَانِي اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ ) [ مَنْ هُمَا ؟ ] ( إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ ) مَنْ صَاحِبُهُ ؟ ( إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ) ، فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَضَرَبَ عَلَيْهَا ، وَقَالَ لِلنَّاسِ : بَايِعُوهُ فَبَايَعُوهُ بَيْعَةً حَسَنَةً جَمِيلَةً . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سالم بن عبید رضی اللہ عنہ جو اصحاب صفہ میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت کیا : نماز کا وقت ہو گیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میرے والد ایک نرم دل شخص ہیں اگر آپ ان کی بجائے کسی اور کو نماز پڑھانے کی ہدایت کریں ، تو یہ مناسب ہو گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوئی ، جب آپ کو ہوش آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے میں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میرے والد ایک نرم دل شخص ہیں اگر آپ ان کی بجائے کسی اور کو نماز پڑھانے کا حکم دیدیں ، تو یہ مناسب ہو گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا نماز قائم ہو چکی ہے ہم نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس کسی شخص کو لے کے آؤ جس سے میں ٹیک لگاؤں سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اور ایک شخص آپ کے پاس آئے ، تو آپ نے ان دونوں پر ٹیک لگائی اور آپ مسجد میں تشریف لے آئے ، جب آپ مسجد میں داخل ہوئے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کر دیا آپ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: میں کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے نہ سنوں کہ اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے اگر میں نے کسی کو سنا تو اسے تلوار مار دوں گا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میری کلائی پکڑ کر آئے انہوں نے میرے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی وہ چلتے ہوئے آئے انہوں نے کہا: تم لوگ گنجائش کرو تم لوگ ان کے لئے گنجائش کرو پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے آپ کو چھوا اور بولے : آپ کا وصال ہو گیا ہے ، اور لوگ بھی مر جائیں گے لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول کے ساتھی ! کیا اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ، تو لوگوں کو پتہ چل گیا کہ جیسے یہ کہہ رہے ہیں ویسا ہی ہے لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول کے ساتھی ! کیا ہم اللہ کے رسول کی نماز جنازہ ادا کریں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لوگوں نے کہا: ہم آپ کی نماز جنازہ کیسے ادا کریں ؟ انہوں نے فرمایا : کچھ لوگ اندر آئیں وہ تکبیر کہیں دعا کریں اور درود پڑھیں وہ باہر چلے جائیں یہاں تک کہ سب لوگ فارغ ہو جائیں لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول کے ساتھی ! کیا اللہ کے رسول کو دفن کیا جائے گا ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں لوگوں نے دریافت کیا : انہیں کہاں دفن کیا جائے گا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا اسی جگہ جہاں ان کا انتقال ہوا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پاکیزہ جگہ پر ہی وفات دی ہے ، تو لوگوں کو یہ پتہ چل گیا کہ ویسا ہی ہو گا جیسے انہوں نے بیان کیا ہے پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے کہا: تمہارے آقا تمہارے پاس ہیں پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیں وہ چلے گئے مہاجرین مشورہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ان لوگوں نے کہا: تم لوگ ہمارے ساتھ انصاری بھائیوں کی طرف چلو کیونکہ اس معاملہ میں ان کا بھی حصہ ہو گا وہ لوگ گئے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: ایک امیر ہم میں سے ہو گا ، اور ایک امیر تم میں سے ہو گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر کا ہاتھ پکڑا اور بولے : تم لوگ مجھے بتاؤ کہ کس شخص میں یہ تین خصوصیات ہیں وہ دو افراد میں سے ایک ہو کہ جب وہ دونوں غار میں تھے ، تو وہ دونوں کون تھے جس نے اپنے ساتھی سے کہا: تم غمگین نہ ہو تو وہ ساتھی کون تھا ( اور یہ بھی فرمایا : ) بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ انہوں نے پکڑا اور لوگوں سے فرمایا ان کی بیعت کرو تو لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمدہ طریقے سے بیعت کر لی ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8935
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6367)»