مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ باب: چار خلفاء کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَضَهُ الَّذِي تُوفِّيَ فِيهِ ، أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ بَعْدَ مَرَّتَيْنِ : " يَا بِلَالُ قَدْ بَلَّغْتَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ " فَرَجَعَ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ : [ يَا رَسُولَ اللَّهِ ] بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَنْ يُصَلِّي ؟ قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ . [ فَلَمَّا أَنْ تَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، رُفِعَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّتُورُ ، قَالَ : فَنَظَرْنَا إِلَيْهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةٌ بَيْضَاءُ ، عَلَى خَمِيصَةٍ ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ ، وَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُروُجَ ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ ، فَمَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ ] " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الزُّهْرِيِّ ، وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْهُ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلاء ہوئے جس میں آپ کا وصال ہو گیا تھا تو اسی دوران سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو بلانے کے لئے آئے دو مرتبہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بلال ! تم نے دو مرتبہ تبلیغ کر دی ہے جو شخص چاہے وہ نماز ادا کر لے اور جو شخص چاہے وہ ترک کر دے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پھر آپ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نماز کون پڑھائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے پردہ ہٹایا گیا راوی کہتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کا چہرہ مبارک ) سفید چاندی کی طرح محسوس ہو رہا تھا آپ کے جسم پر چادر موجود تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے ۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ تشریف لانے لگے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ کھڑے رہیں اور نماز پڑھائیں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اس کے بعد ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے ، اور وہ زہری کے بارے میں ضعیف ہے ، اور یہ حدیث ان روایات میں سے جو اس نے زہری کے حوالے سے نقل کی ہیں ۔